کیا پاکستانی شدت پسند تنظیموں کی افغان جنگجوؤں کو حملوں سے دور رکھنے کی ہدایات افغان طالبان کے دباؤ کا نتیجہ ہیں؟

Jan 12, 2026 - 16:09
 0  0
کیا پاکستانی شدت پسند تنظیموں کی افغان جنگجوؤں کو حملوں سے دور رکھنے کی ہدایات افغان طالبان کے دباؤ کا نتیجہ ہیں؟
    • عزیز اللہ خان
    • عہدہ,بی بی سی اردو، پشاور

پاکستان میں حکومت کی جانب سے کالعدم تنظیموں کی کارروائیوں میں افغان عسکریت پسندوں کے ملوث ہونے کے دعوے تو سامنے آتے رہے ہیں لیکن اب دو کالعدم تنظیموں کے رہنماؤں نے اپنے جنگجوؤں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ اپنی کارروائیوں میں افغان شہریوں کو شامل نہ کریں۔

یہ ہدایات ایک آڈیو پیغام میں حافظ گُل بہادر اور ایک ویڈیو پیغام میں سربکف مہنمد نے اپنے پیروکاروں کو جاری کی ہیں۔

ان دونوں طالبان تنظیموں کے رہنماؤں کے بیانات تقریباً ایک ہفتے کے جاری ہوئے ہیں۔ پہلا بیان یکم جنوری کو حافظ گل بہادر جبکہ دوسرا پیغام چھ جنوری کو سر بکف مہمند کی جانب سے جاری کیا گیا تھا۔

حافظ گُل بہادر کالعدم ٹی ٹی پی کے اپنے گروہ کے سربراہ ہیں جبکہ سربکف مہمند جماعت الاحرار کے سربراہ ہونے کے ساتھ ساتھ کالعدم ٹی ٹی پی کا بھی حصہ ہیں۔

دونوں عسکریت پسند رہنماؤں نے پشتوں زبان میں اپنے پیغامات میں پہلے تو اپنے زندہ ہونے کے ثبوت پیش کیے اور ان ریکارڈنگز میں ان تاریخوں کا بھی ذکر کیا ہے جب یہ بیانات ریکارڈ کیے گئے۔

حافظ گل بہادر نے اپنا آڈیو پیغام وزیری زبان میں جاری کیا ہے۔ چونکہ حافظ گل بہادر گروپ کا کوئی میڈیا ونگ نہیں ہے اس لیے یہ پیغام ان کی جانب سے ان کے پیروکاروں کو بھیجا گیا ہے اور پھر ان لوگوں کے سوشل میڈیا پیجز پر شیئر کیا گیا ہے۔

دونوں عسکریت پسند شخصیات کی جانب سے یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب گذشتہ مہینے افغان علما نے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ کی جائے۔

اس اعلامیے میں واضح کیا گیا تھا کہ جو بھی افغان سرزمین کا استعمال کر کے ملک سے باہر عسکری کارروائی کرے گا اسے ’باغی‘ تصور کیا جائے گا۔

What's Your Reaction?

Like Like 0
Dislike Dislike 0
Love Love 0
Funny Funny 0
Angry Angry 0
Sad Sad 0
Wow Wow 0