ایئر بلیو

ناقابل تلافی نقصان کے ازالے کے لیے آٹھ متاثرین کو مجموعی طور پر 5.4 ارب روپے معاوضہ ادا کیا جائے۔

Dec 31, 2025 - 14:39
 0  1
ایئر بلیو

یہ بات سال 2010 کی ہے جب گوہر رحمان اپنے 22 سالہ بیٹے عرفان اور اپنی ایک قریبی خاتون رشتہ دار کو ایئر بلیو کی فلائٹ نمبر ای ڈی 202 پر سوار کروا رہے تھے۔ انھوں نے عرفان کو جلد واپسی کی ہدایت کی تھی۔

گوہر رحمان نے بیٹے سے کہا تھا کہ ’دیکھو! جہاز میں احتیاط سے سفر کرنا اور کوشش کرنا کہ جلدی واپس آجاؤ۔ مجھ سے اکیلے کام نہیں سبنھالا جاتا۔‘

گوہر رحمان کراچی میں پھلوں کی ریڑھی لگاتے تھے جبکہ عرفان ایک گارمنٹس فیکڑی میں کمپیوٹر آپریٹر تھے جس کے ساتھ وہ تعلیم بھی حاصل کر رہے تھے اور والد کے کام میں بھی ہاتھ بٹاتے تھے۔

2010 میں ایئر بلیو کی یہ پرواز اسلام آباد میں حادثے کا شکار ہوئی تھی۔ طیارے کے مارگلہ ہلز میں گِر کر تباہ ہونے سے اس پر سوار تمام 152 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ان میں گوہر رحمان کا نوجوان بیٹا اور قریبی عزیزہ بھی شامل تھیں۔

گوہر رحمان ہی نہیں بلکہ انجینیئرنگ کے شعبے سے وابستہ حامد جنید نے بھی اس حادثے میں اپنی اہلیہ کو ہمیشہ کے لیے کھو دیا۔

جب حامد جنید اپنی اہلیہ عندلیب کو کراچی ایئر پورٹ پر الوداع کر رہے تھے تو انھوں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ آخری مرتبہ اپنی اہلیہ کو دیکھ رہے ہیں۔

اسی طرح قیصر ذوالفقار کے چھوٹے بھائی حیدر ذوالفقار شاہ کراچی سے منگنی کے بعد واپس جا رہے تھے کہ یہ حادثہ پیش آ گیا۔ حیدر کے لواحقین کو ان کی میت بھی نہ مل سکی تھی۔

ان خاندانوں نے 15 سال تک قانونی جنگ لڑی جس کے بعد اسلام آباد کی ایک ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے حکم دیا کہ حادثہ ایئر بلیو کی غلطی کی وجہ سے ہوا تھا لہذا اس ناقابل تلافی نقصان کے ازالے کے لیے آٹھ متاثرین کو مجموعی طور پر 5.4 ارب روپے معاوضہ ادا کیا جائے۔

What's Your Reaction?

Like Like 0
Dislike Dislike 0
Love Love 0
Funny Funny 0
Angry Angry 0
Sad Sad 0
Wow Wow 0