امریکہ کی ایران کو ’زیرو انرچمنٹ‘ کے بدلے مذاکرات کی پیشکش، تہران کا یورپ اور امریکہ سے اپنے رویے میں تبدیلی لانے کا مطالبہ
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے دو مستقل اراکین، چین اور روس، کی مخالفت کے باوجود ایران کے جوہری پروگرام پر کونسل کا اجلاس نیویارک میں منعقد ہوا۔
اجلاس کے دوران امریکی نمائندے کا کہنا تھا کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ ’زیرو انرچمنٹ‘ یا یورینیم افزودہ نہ کرنے کے بدلے میں براہ راست مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ جواب میں ایرانی نمائندے کا کہنا تھا کہ سفارت کاری تب ہی ممکن ہے جب یورپ اور امریکہ اپنے رویے میں تبدیلی لائیں۔
مشرق وسطیٰ کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کی نائب خصوصی ایلچی مورگن اورٹاگس نے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا: ’امریکہ ایران کے ساتھ باضابطہ مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن صرف اس صورت میں جب تہران بھی براہ راست اور بامعنی بات چیت کے لیے تیار ہو۔‘
ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کسی بھی معاہدے کے بارے میں اپنے توقعات کے بارے میں واضح ہیں۔ ’سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایران کے اندر کوئی افزودگی نہیں ہو سکتی، اور یہ ہمارا اصول ہے۔‘
امریکی نمائندے تہران سے مطالبہ کیا کہ وہ ’آگ سے دور ہو جائے‘ اور ٹرمپ کی سفارت کاری سے ہاتھ ملا لے۔
اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے امیر سعید ایراوانی نے امریکی پیشکش کا جواب دیتے ہوئے کہا: ’ہم کسی بھی منصفانہ اور بامعنی مذاکرات کا خیرمقدم کرتے ہیں، تاہم نام نہاد صفر افزودگی کی پالیسی پر اصرار ان حقوق کے برعکس جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کا رکن ہونے ناطے ایران کو حاصل ہے۔‘
ایرانی نمائندے کا مزید کہنا تھا کہ ان کا ملک اصولی سفارت کاری اور حقیقی مذاکرات کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ ’اب یہ فرانس، برطانیہ اور امریکہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا رویہ درست کریں اور بھروسے اور اعتماد کی بحالی کے لیے عملی اور قابل اعتماد اقدامات کریں۔‘
What's Your Reaction?
Like
0
Dislike
0
Love
0
Funny
0
Angry
0
Sad
0
Wow
0