ایف 15 اور ٹائی فون یورو فائٹر جیسے جدید لڑاکا طیاروں کی موجودگی میں کیا سعودی عرب کو جے ایف 17 تھنڈر کی ضرورت پڑ سکتی ہے؟
-
- روحان احمد
- عہدہ,بی بی سی اردو، اسلام آباد
بنگلہ دیش کی جانب سے جے ایف-17 تھنڈر طیارے کی ’خریداری میں دلچپسی‘ کے اظہار کے بعد ذرائع ابلاغ پر یہ اطلاعات بھی منظرِ عام پر آ رہی ہیں کہ سعودی عرب بھی پاکستان سے یہ لڑاکا طیارے حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔
جمعرات کو خبر رساں ادارے روئٹرز نے دو پاکستانی ذرائع سے بات چیت کی بنیاد پر یہ خبر دی تھی کہ سعودی عرب اپنے اتحادی پاکستان کو دیے گئے دو ارب ڈالر کے قرضے کو جے ایف تھنڈر لڑاکا طیاروں کے معاہدے میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔
پاکستانی اور سعودی حکام کی جانب سے تاحال اس خبر کی تردید یا تصدیق نہیں کی گئی ہے۔
جمعرات کو پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان سے جب اِن اطلاعات کے حوالے سے پوچھا گیا تو انھوں نے بھی تردید یا تصدیق کرنے کے بجائے اس معاملے پر اپنی لاعلمی کا اظہار کیا۔
اپنے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک دفاع کے شعبے سمیت متعدد شعبوں میں تعاون کرتے ہیں۔ ’میں کسی پلیٹ فارم یا کسی سسٹم (طیارے) اور اس کی مالی ایڈجسٹمنٹ سے آگاہ نہیں ہوں۔ ہم ایسی پیش رفت کی تصدیق اس کے مکمل ہونے پر ہی کرتے ہیں۔‘
اگرچہ اس معاملے پر حکومتی وضاحت باقی ہے تاہم انڈیا اور پاکستان میں بہت سے لوگ یہ سوالات بھی اُٹھاتے ہوئے نظر آ رہے ہیں کہ سعودی عرب پاکستان سے جے ایف-17 تھنڈر طیارے حاصل کرنے میں دلچپسی کیوں لے گا جبکہ اس کے پاس پہلے سے ہی اس سے ’کہیں بہتر اور جدید‘ طیارے موجود ہیں اور یہ بھی کہ امریکہ سعودی عرب کو ایف 35 جیسا جدید لڑاکا طیارہ فروخت کرنے پر بھی رضامند ہے؟
ان سوالات کے جوابات جاننے سے قبل یہ جاننا ضروری ہے کہ سعودی عرب کے پاس ابھی کون کون سے لڑاکا طیارے موجود ہیں؟ اور جے ایف-17 طیارے میں ایسی کیا خصوصیات ہیں؟
What's Your Reaction?
Like
0
Dislike
0
Love
0
Funny
0
Angry
0
Sad
0
Wow
0