سندھ میں کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف ’میگا آپریشن‘ کا اعلان: لاکھوں روپے سر کی قیمت والے ڈاکو کون اور کیا یہ کارروائی ’فیصلہ کُن‘ ہو سکتی ہے؟
-
- ریاض سہیل
- عہدہ,بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، کراچی
سندھ حکومت نے شمالی سندھ کے کچے کے علاقے میں سرگرم ڈاکوؤں کے خلاف ایک بار پھر ’میگا آپریشن‘ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے جس میں پنجاب حکومت سے بھی مدد لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
سندھ حکومت ماضی میں بھی متعدد مرتبہ کچے کے ڈاکوؤں اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف ’فیصلہ کُن‘ آپریشنز کر چکی ہے تو ایسے میں ایک نئے ’میگا آپریشن‘ کی ضرورت کیوں پیش آئی ہے۔
سندھ میں حکام کے مطابق گھوٹکی کے علاقے میں 43 ڈاکو انتہائی مطلوب ہیں جن کی سر کی قیمتیں دو لاکھ روپے سے 50 لاکھ رپے تک مقرر ہیں۔ یہ ڈاکو انفرادی طور پر یا گینگ تشکیل دے کر کارروائیاں کرتے ہیں جس میں شامل جرائم پیشہ افراد کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔
محکمہ داخلہ سندھ کے مطابق گھوٹکی میں سب سے زیادہ مطلوب ڈاکو راہب عرف کلثوم شر ہیں جن کے خلاف مختلف مبینہ جرائم کے 42 مقدمات درج ہیں اور ان کی گرفتاری میں مدد دینے پر حکومت نے 50 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کر رکھا ہے۔
اسی طرح خدا بخش شرع نامی ڈاکو کے خلاف مختلف دفعات کے تحت 18 مقدمات درج ہیں اور اُن کے سر کی قیمت بھی 50 لاکھ ررپے ہے۔ جمیل انڈھڑ 13 مقدمات میں مطلوب ہیں جبکہ میر محمد جاگیرانی 10 مقدمات میں مطلوب ہیں اور ان کے سر پر بھی انعام کا اعلان ہے۔
کشمور ضلع میں 79 ڈاکو مطلوب ہیں، جن میں ریاض جاگیرانی کے سرکی قیمت 50 لاکھ روپے جبکہ سائینداد، مشکی، علی جان اور شیر محمد کے سر پر 30 لاکھ روپے کا انعام مقرر ہے۔
سندھ کے وزیر داخلہ ضیاالحسن لنجار نے میگا آپریشن کا اعلان ایسے وقت میں کیا ہے جب سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ظفر راجپوت بھی شمالی سندھ کے دورے پر ہیں اور وہ ان اضلاع میں بھی جا رہے ہیں جہاں ڈاکوؤں کی وجہ سے امن و امان کی صورتحال خراب ہے۔
سکھر سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی اور تجزیہ نگار ممتاز بخاری کہتے ہیں کہ وکلا بھی اس بدامنی سے متاثر ہیں اور انفرادی طور پر اس کی شکایت بھی کرتے رہے ہیں۔
What's Your Reaction?
Like
0
Dislike
0
Love
0
Funny
0
Angry
0
Sad
0
Wow
0